صدائے لبیک

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - لبیک (تیری خدمت میں حاضر ہوں) کی آواز۔ "جادو گروں نے حضرت موسٰی کی دعوت پر صدائے لبیک بلند کر دی۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبی، ١٠٣:٣ )

اشتقاق

عربی زبان سے مرکب اضافی ہے۔ عربی زبان سے مشتق دو اسما 'صدا' اور 'لبیک' کے درمیان 'ئے' بطور حرفِ اضافت ملنے سے مرکب بنا۔ مذکور مرکب میں 'صدا' مضاف اور 'لبیک' مضاف الیہ ہے۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے ١٩١٢ء کو "صدائے لبیک" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - لبیک (تیری خدمت میں حاضر ہوں) کی آواز۔ "جادو گروں نے حضرت موسٰی کی دعوت پر صدائے لبیک بلند کر دی۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبی، ١٠٣:٣ )

جنس: مؤنث